Sunday, 12 February 2012

اینٹی پائریسی قانون پر یورپ میں احتجاج

فیس بک اور ٹوئیٹر کی نوجوانوں میں مقبولیت میں اضافہ

آئی پیڈ 3 مارچ میں آنے کی لیے تیار

ڈپریشن دور کرنے والا سمارٹ فون تیار کر لیا گیا

ایکسو پلینیٹریز کی حقیقی شکل دکھانے والا کمپیوٹر پروگرام

جڑانوالہ/فیصل آباد میں آئی ٹی یونیورسٹی کے قیام کا اعلان


یکم مارچ سے ایس ایم ایس کے ذریعےووٹ کی تصدیق

پنجاب سمال انڈسٹریز کے آٹی ٹی ملازمین کو کورسزکرانے کا فیصلہ

Saturday, 11 February 2012

ایران میں انٹرنیٹ تک رسائی خاتمے کے قریب ہے

ایران میں انٹرنیٹ تک رسائی بری طرح خاتمے کے قریب ہے
ایران کی حکومت ملک کی بیشتر آبادی کے لئے انٹرنیٹ تک رسائی محدود کرنے کے لیے مضبوط اقدامات کر رہی ہے  اور اس مقصد کے حصول کے لیے  متبادل ذرائع سے انڑنیٹ  کا حصول بھی تیزی سے مشکل بنایا جارہا ہے

 
ٹیک نیوز ورلڈ


حکومت پاکستان نے 13000 فحش ویب سائٹس بلاک کر دیں

ایکسپریس ٹرایبیون پر شائع ہونے والی خبر کے مطابق پارلیمانی سیکریٹری برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نواب لیاقت علی خان نےاعلان کیا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے 13000 ویب سائیٹس جن پر فحش اور قابل اعتراض مواد تھا بلاک کر دی گئی ہیں۔
اس حوالے سے اسمبلی میں ایک توجہ طلب نوٹس پیش کیا گیا۔ جس میں حکومت سے پوچھا گیا کہ وہ ان فحش ویب سائیٹس کے بارے میں کیا کر رہی ہے۔ پارلیمانی سیکریٹری کے مطابق حکومت اس تمام صورتحال سے بخوبی واقف ہے اور ایسی ویب سائیٹس کو بلاک کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
پارلیمانی سیکریٹری نے اس روز بروز فحش ویب سائیٹس کی تعداد میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے اس کے تدارک کے لیے ایک کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی۔ انکے مطابق حکومت کے پاس ان تمام ویب سائیٹس کو بلاک کرنے کے لیے کوئی واضح نظام موجود نہیں لیکن پھر بھی جیسے ہی انہیں کوئی شکایت ملتی ہے اس پر فوری عمل کیا جاتا ہے۔
انہوں نے انڈیا اور چین کی مثال دی جہاں کثیررقوم خرچ کرکے ویب سائیٹس بلاک کرنے کا سسٹم بنایا گیا ہے جو حکومت مخالف ویب سائیٹس بلاک کرنے کی اہلیت بھی رکھتا ہے۔ مگر پارلیمانی سیکریٹری نے اس بات کی وضاحت کی کہ ایسے نظام کے باوجود تمام فحش ویب سائیٹس کو بلاک کرنا محال ہے۔

ایکسپریس ٹرائیبیون